تحفظ حقوق نسواں بل کا مکمل متن

muslimwomensrights_fa_rszd

قومی اسمبلی میں پیش کردہ صورت میں مجموعہ تعزیرات پاکستان، مجموعہ ضابطہ فوجداری اور دیگر قوانین میں مزید ترمیم کرنیکا بلچونکہ دستور کا آرٹیکل ١١٤ اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ شرف انسانی اور قانونکے تابع، گھر کی خلوت قابل حرمت ہو گی۔
چونکہ دستور کا آرٹیکل ٣٧ سماجی انصاف کو فروغ دینے اور سماجی برائیوں کا خاتمہ کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
چونکہ یہ ضروری ہے کہ قانون کے غلط اور بیجا استعمال کے خلاف خواتین کی داد رسی کی جائے اور تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے استحصال کو روکا جائے۔
چونکہ اس بل کا مقصد ایسا قانون لانا ہے جو بالخصوص دستور کے بیان کردہ مقاصد اور اسلامی احکام سے مطابقت رکھتا ہو۔
چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعدازیں ظاہر ہونے والی اغراض کے لئےمجموعہ تعزیرات پاکستان ١٨٦٠ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٦٠ء) مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) قانون انفساخ ازواج مسلمانان ١٩٣٩ء (نمبر ٨ بابت ١٩٣٩ء) زناء کا جرم (نفاذ حدود) آرڈیننس، ١٩٧٩ء (نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء) اور قذف کا جرم (حد کا نفاظ) آرڈیننس، ١٩٧٩ء (نمبر ٨ مجریہ ١٩٧٩ء) میں مزید ترمیم کی جائے۔
لہذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔١- مختصر عنوان اور آغاز کا نفاذ:-
(١) یہ ایکٹ، قانون فوجداری ترمیمی (خواتین کا تحفظ) ایکٹ ٢٠٠٢ء کے نام سے موسوم ہو گا۔
(٢) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا۔

٢۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مجموعہ تعزیرات پاکستان (ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) میں جس کا حوالہ بعدازیں ‘مجموعہ قانون‘ کے طور پر دیا گیا، دفعہ ٣٦٥ الف کے بعد، حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی یعنی ۔۔۔
٣٦٥ ب۔ عورت کو نکاح وغیرہ پر مجبور کرنے کے لئے اغوا کرنا لے بھاگنا یا ترغیب دینا:-
جو کوئی بھی کسی عورت کو اس اردادے سے کہ اسے مجبور کیا جائے، یا یہ جانتے ہوئے اسے مجبور کرنے کا احتمال ہے کہ وہ اپنی مرضی کے خلاف کسی شخص سے نکاح کرے یا اس غرض سے کہ ناجائز جماع پر مجبور کی جائے یا پھسلائی یا اس امر کے احتمال کے علم سے کہ اسے ناجائز جماع پر مجبور کر لیا جائے یا پھسلا لیا جائے گا، لے بھاگے یا اغوا کر لے تو عمر قید کی سزا دی جائے گی اور جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا اور جو کوئی بھی اس مجموعہ قانون میں تعریف کردہ تخریف مجرمانہ کے ذریعے یا اکتیار کے بیجا استعمال یا جبر کے کسی دوسرے طریقے کے ذریعے، کسی عورت کو کسی جگہ سے جانے کے لئے اس ارادے سے یا یہ جانتے ہوئے ترغیب دے کہ اس امر کا احتمال ہے کہ اسے کسی دوسرے شخص کے ساتھ ناجائز جماع پر مجبور کیا جائے گا یا پھسلا لیا جائے گا تو بھی مذکورہ بالا طور پر قابل سزا ہو گا۔

٣۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں دفعہ ٣٦٧ کے بعد حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی یعنی ۔۔۔۔۔
٣٦٧ الف ۔ کسی شخص سے غیر فطری خواہش نفسانی کا نشانہ بنانے کی غرض سے اغوا کرنا یا لے بھاگنا:-
جو کوئی بھی کسی شخص کو اس غرض سے کہ مذکورہ شخص کسی شخص کی غیر فطری خواہش نفسانی کا نشانہ بنایا جائے یا اس طرح ٹھکانے لگایا جائے کہ وہ کسی شخص کی غیر فطری خواہش نفسانی کا نشانہ بننے کے خطرے میں پڑ جائے اس امر کے احتمال کے علم کے ساتھ مذکورہ شخص کو بایں طور پر نشانہ بنایا جائے گا یا ٹھکانے لگایا جائے گا، لے بھاگے یا اغوا کرے تو اسے موت یا پچیس سال تک کی مدت کے لئے قید سخت کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

٤۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعات کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں دفعہ ٣٧١ کے بعد حسب ذیل نئی دفعات شامل کر دی جائیں گی یعنی ۔۔۔۔۔
٣٧١ الف ۔ کسی شخص کو عصمت فروشی وغیرہ کی اغراض کے لئے فروخت کرنا:-
جو کوئی بھی کسی شخص کو اس نیت سے کہ مذکورہ شخص کسی بھی وقت عصمت فروشی یا کسی شخص کے ساتھ ناجائز جماع کی غرض سے یا کسی ناجائز اور غیر اخلاقی مقصد کے لئے کام میں لگایا جائے گا یا استعمال کیا جائے گا یا اس امر کے احتمال کا علم رکھتے ہوئے کہ مذکورہ شخص کو کسی بھی وقت مذکورہ غرض کے لئے کام میں لگایا جائے گا یا استعمال کیا جائے گا، فروخت کرے، اجرت پر چلائے یا بصورت دیگر حوالے کرے تو اسے پچپن سال تک کی مدت کے لئے سزا دی جائے گی اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔
تشریحات۔
(الف) جب کوئی عورت کسی طوائف یا کسی شخص کو کسی چکلے یا مالک یا منتظم ہو فروخت کی جائے، اجرت پر دی جائے، بصورت دیگر حوالے کی جائے تو مذکورہ عورت کو اس طرح حوالے کرنے والے شخص کے متعلق تاوقتیکہ اس کے برعکس ثابت نہ ہو جائے یہ تصور کیا جائے گا کہ اس نے اسے اس نیت سے حوالے کیا تھا کہ اسے عمت فروشی کے مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔
(ب) دفعہ ہذا اور دفعہ ٣٧١ ب کی اغراض کے لئے ‘ناجائز جماع‘ سے ایسے اشخاص کے مابین جماع مراد ہے جو رشتہ نکاح میں منسلک نہ ہوں۔
٣٧١ ب ۔ کسی شخص کو عصمت فروشی وغیرہ کی اغراض سے خریدنا:-
جو کوئی بھی کسی شخص کو اس نیت سے کہ مذکورہ شخص کو کسی وقت عصمت فروشی کے لئے یا کسی شخص کے ساتھ ناجائز جماع کے لئے کسی ناجائز اور غیر اخلاقی مقصد کے لئے کام میں لگایا جائے گا یا استعمال کیا جائے گا، خریدے، اجرت پر رکھے یا بصورت دیگر اس کا قبضہ حصل کرے تو اسے پچیس سال کی مدت کے لئے سزائے قید دی جائے گی اور جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔
تشریح:-
کوئی طوائف یا کوئی شخص جو کسی چکلے کا مالک یا منتظم ہو کسی عورت کو خریدے، اجرت پر رکھے یا بصورت دیگر اس کا قبضہ حاصل کرے تو تاوقتیکہ اس کے برعکس ثابت نہ ہو جائے یہ تصور کیا جائے گا کہ اس عورت پر اس نیت سے قبضہ کیا گیا تھا کہ اسے عصمت فروشی کے مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

٥۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں دفعہ ٣٧٤ کے بعد ذیلی عنوان ‘زنا بالجبر‘ کے تحت حسب ذیل نئی دفعات شامل کر دی جائیں گی، یعنی ۔۔
٣٧٥۔ زنا بالجبر:-
کسی مرد کو زنا بالجبر کا مرتکب کہا جائے گا جو ماسوائے ان مقدمات کے جو بعدازاں مستثنٰی ہوں، کسی عورت کے ساتھ مندرجہ ذیل پانچ حالات میں میں سے کسی میں جماع کرے۔
(اول) اس کی مرضی کے خلاف۔
(دوم) اس کی رضا مندی کے بغیر۔
(سوم) اس کی رضا مندی سے، جبکہ رضا مندی اس کو ہلاک یا ضرر کا خوف دلا کر حاصل کی گئی ہو۔
(چہارم) اس کی مرضی سے جبکہ مرد جانتا ہو کہ وہ اس کے نکاح میں نہیں ہے اور یہ کہ رضا مندی کا اظہار اس وجہ سے کیا گیا ہے کیونکہ وہ یہ باور کرتی ہے کہ مرد وہ دوسرا شخص ہے جس کے ساتھ اس کا نکاح ہونا وہ باور کرتا ہے یا کرتی ہے، یا
(پنجم) اس کی رضا مندی سے یا اس کے بغیر جبکہ وہ سولہ سال سے کم عمر کی ہو۔
تشریح:-
زنا بالجبر کے جرم کے لئے مطلوبہ جماع کے تعین کے لئے دخول کافی ہے۔‘
٣٧٦۔ زناءبالجبر کے لئے سزا:-
(١) جو کوئی زناءبالجبر کا ارتکاب کرتا ہے اسے سزائے موت یا کسی ایک قسم کی سزائے قید جو کم سے کم پانچ سال یا زیادہ سے زیادہ پچیس سال تک ہو سکتی ہے دی جائے گی اور جرمانے کی سزا کا بھی مستوجب ہو گا۔
(٢) جب زناءبالجبر کا ارتکاب دو یا زیادہ اشخاص نے بہ تائید باہمی رضامندی سے کیا ہو تو، ان میں سے ہر ایک شخص کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی۔

٦۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں، بابت بیس میں، حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی یعنی ۔۔
٤٩٣ الف۔ کسی شخص کا فریب سے جائز نکاح کا یقین دلا کر ہم بستری کرنا:-
ہر وہ شخص جو فریب سے کسی عورت کو جس سے جائز طریق پر اس نے نکاح نہ کیا ہو، یہ باور کرائے کہ اس نے اس عورت سے جائز طور پر نکاح کیا ہے اور اسے یقین کے ساتھ ہم بستری پر آمادہ کرے تو اسے پچیس سال تک کے لئے قید سخت دی جائے گی اور جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

٧۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں دفعہ ٤٩٦ کے بعد، حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی، یعنی ۔۔
٤٩٦ الف۔ کسی عورت کو مجرمانہ نیت سے ورغلانہ یا نکال کر لے جانا یا روک رکھنا۔
جو کوئی بھی کسی عورت کو اس نیت سے نکال کر لے جائے یا ورغلا کر لے جائے کہ وہ کسی شخص کے ساتھ ناجائز جماع کرے یا کسی عورت کو مذکورہ نیت سے چھپائے یا روک رکھے تو اسے سات سال تک کی مدت کے لئے کسی بھی قسم کی سزائے قید دی جائے گی اور جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔

٨۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعہ کی شمولیت:-
مذکورہ مجموعہ قانون میں، دفعہ ٥٠٢ الف کے بعد، حسب ذیل نئی دفعہ شامل کر دی جائے گی، یعنی ۔۔۔
٥٠٢ ب۔ زناءبالجبر کی صورت میں کسی عورت کی شناخت کی تشہیر کرنا:-
اگر کوئی زناءبالجبر کے کسی مقدمے کی تشہیر کرتا ہے جس کے ذریعے کسی عورت یا اس کے خاندان کے کسی فرد کی شناخت کو ظاہر کرے تو اسے چھ ماہ تک کی سزائے قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔

٩- ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء میں نئی دفعات کی شمولیت:-
مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) میں دفعہ ٢٠٣ کے بعد، حسب ذیل نئی دفعات شامل کر دی جائیں گی، یعنی ۔۔۔
٢٠٣ الف ۔ زناء کی صورت میں نالش:-
(١) کوئی عدالت زناء کے جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس، ١٩٧٩ء (نمبر مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ ٥ کے تحت کسی جرم کی سماعت نہیں کرے گی ماسوائے اس نالش کے جو کسی اختیار سماعت رکھنے والی مجاز عدالت میں دائر کی جائے۔
(٢) کسی نالش جرم کا اختیار سماعت رکھنے والی عدالت کا افسر صدارت کنندہ فوری طور پر مستغیث زناء کے فعل کے کم از کم چار چشم دید بالغ گواہوں کی حلف پر جرم کے لئے ضروری جانچ پڑتال کرے گا۔
(٣) مستغیث اور عینی گواہوں کی جانچ پڑتال کرنے کے لئے مواد کو تحریر تک محدود کر دیا جائے گا اور اس پر مستغیث اور عینی گواہوں کے علاوہ عدالت کے افسر صدارت کنندہ کے بھی دستخط ہوں گے۔
(٤) اگر عدالت کے افسر صدارت کنندہ کی یہ رائے ہو کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود ہے تو عدالت ملزم کی اصالتاَََََََ حاضری کے لئے سمن جاری کرے گا۔
(٥) کسی عدالت کا افسر صدارت کنندہ جس کے روپرو نالش دائر کی گئی ہو یا جس کو یہ منتقل کی گئی ہو اگر وہ مستغیث اور چار یا زائد عینی گواہوں کے حلفیہ بیانات کے بعد یہ فیصلہ دے کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود نہیں ہے، نالش کو خارج کر سکے گا اور ایسی صورت میں وہ اس کی وجوہات قلمبند کرے گا۔
٢٠٣ ب قذف کی صورت میں نالش:-
(١) دفعہ ٦ کی ذیلی دفعہ (٢) کے تابع، کوئی عدالت قذف کا جرم (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء (نمبر ٨ مجریہ ١٩٧٩ء) کی ذیلی دفعہ ٧ کے تحت کسی جرم کی سماعت نہیں کرے گی ماسوائے اس نالش کے جو اختیار سماعت رکھنے والی مجاز عدالت میں دائر کی جائے۔
(٢) کسی نالش جرم کا اختیار سماعت رکھنے والی عدالت کا افسر صدارت کنندہ فوری طور پر مستغیث کی قذف کے فعل کے جرم میں ضروری جانچ پڑتال کرے گا۔
(٣) مستغیث کی جانچ پڑتال کے مواد کو تحریر تک محدود کر دیا جائیگا اور اس پر مستغیث کے علاوہ افسر صدارت کنندہ کے بھی دستخط ہوں گے۔
(٤) اگر عدالت کے افسر صدارت کنندہ کی یہ رائے ہو کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود ہے تو عدالت ملزم کی اصالتاَََََََ حاضری کے لئے سمن جاری کرے گا۔
(٥) کسی عدالت کا افسر صدارت کنندہ جس کے روپرو نالش دائر کی گئی ہو یا جس کو یہ منتقل کی گئی ہو اگر وہ مستغیث کے حلفیہ بیانات پر غور کرنے کے بعد یہ فیصلہ دے کہ کاروائی کے لئے کافی وجہ موجود نہیں ہے،تو نالش کو خارج کر سکے گا اور ایسی صورت میں وہ اس کی وجوہات قلمبند کرے گا۔

١٠۔ ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء کے جدول دوم کی ترمیم:-
مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) میں دول دوم میں ۔۔۔

١١۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی نئی دفعہ ٢ کی ترمیم:-
(١) زناء کے جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء) میں دفعہ ٢ میں شقات (ج) اور (ہ) حذف کر دی جائیں گی۔

١٢۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ٣ کا حذف:-
زناء کا جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس، ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعہ ٣ کو حذف کر دیا جائیگا۔

١٣۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعہ ٤ کی ترمیم:-
زناء کا جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء میں دفعہ ٤ میں لفظ ‘جائز طور پر‘ اور مذکورہ دفعہ کے آخر میں تشریح کو حذف کر دیا جائیگا۔

١٤۔ آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء کی دفعات ٦ اور ٧ کا حذف کرنا:-
زناء کا جرم (نفاظ حدود) آرڈیننس ١٩٧٩ء (آرڈیننس نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء) کی دفعات ٦ اور ٧ کو حذف کر دیا جائے گا۔

بیان اغراض و وجوہ۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مسملہ دستوری مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات اور مقتضیات کے مطابق جیسا کہ قرآن پاک اور سنت میں موجود ہے۔ بحثیت انفرادی اور اجتماعی زندگیاں گزارنے کے قابل بنایا جائے۔
چنانچہ دستور، اس امر کی تاکید کرتا ہے کہ موجودہ تمام قوانین کو اسلامی احکام کے مطابق جس طرح قرآن پاک اور سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے، دینا چاہیے۔
اس بل کا مقصد بالخصوص زناء اور قذف سے متعلق قوانین کو بالخصوص بیان کردہ اسلامی جمہوری پاکستان کے مقاصد اور دستوری ہدایت کے مطابق بنانا ہے اور خاص طور پر قانون کے بے جا اور غلط استعمال کے خلاف خواتین کی داد رسی کرنا اور انہیں تحفظ فراہم کرنا ہے۔
قرآن پاک میں زناء اور قذف کے جرائم کے بارے میں موجود ہے زناء اور قذف سے متعلق دو آرڈیننس اس اس حقیقت کے باوجود کہ قرآن اور سنت نے نہ تو ان جرائم کی وضاعت کی ہے اور نہ ہی ان کے لئے سزا مقرر کی ہے تاہم دیگر قابل سزا قوانین کے شمار میں اضافہ کرتے ہیں، زناء اور قذف کے لئے سزائیں قصاص کے کسی اصول کے بغیر یا ان جرائم کے لئے ثبوت کے کسی طریقے کی نشاندہی کئے بغیر نہیں دی جا سکتیں۔
کوئی جرم جس کا حوالہ قرآن پاک اور سنت میں نہیں یا جس کے لئے اس میں سزا کے بارے میں نہیں بتایا گیا وہ تعزیر ہے جو ریاستی قانون سازی کا موضوع ہے۔ یہ دونوں کام ریاست کے ہیں کہ وہ مذکورہ جرائم کی وضاعت کرے اور ان کے لئے سزاؤں کا تعین کرے۔ ریاست مذکورہ اختیار کو مکمل اسلامی ہم آہنگی کے ذریعے استعمال کرتی ہے جو ریاست کو وضاعت اور سزا ہر دو کا اختیار دیتا ہے، اگرچہ ، مذکورہ تمام جرائم کو دونوں حدود آرڈیننسوں سے نکال دیا گیا ہے اور مجموعہ تعزیرات پاکستان ١٨٦٠ء (ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) جسے بعدازاں پی پی سی کا نام دیا گیا ہے میں مناسب طور پر شامل کر دیا گیا ہے۔
زناء کے جرم (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء (نمبر ٧ مجریہ ١٩٧٩ء) جسے بعدازاں ‘زناء آرڈیننس‘ کا نام دیا گیا ہے کی دفعات ١١ تا ١٦ میں دیئے گئے جرائم تعزیر کے جرائم میں ہیں، ان تمام کو مجموعہ تعزیرات پاکستان ١٨٦٠ء (ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) کی دفعات ٣٦٥ب، ٣٦٧الف، ٣٧١الف، ٣٧١ب، ٤٩٣الف اور ٤٩٦الف کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ جرم قذف (نفاظ حد) آرڈیننس ١٩٧٩ء جسے بعدازاں ‘قذف آرڈیننس‘ کا نام دیا گیا ہے کی دفعات ١٢ اور ١٣ کو حذف کیا گیا ہے، یہ مذکورہ آرڈیننس کی دفعہ ٣ میں قذف کی تعریف کے طور پر کیا گیا ہے جو طبع شدہ اور کنندہ شدہ مواد کی طباعت یا کنندہ کاری یا فروخت کے ذریعے ارتکاب کردہ قذف کو کافی تحفظ دیتی ہے۔ مذکورہ تعزیری جرائم میں سے کسی کی آئینی تعریف کے استعمال میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے یا ان کے لئے مقرر کی گئی سزا کو محفوظ رکھا گیا ہے۔ ان تعزیری جرائم کے لئے کوڑوں کی سزا کو حذف کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن اور سنت میں ان جرائم سے متعلق کوئی سزا نہیں ہے۔ ریاست کو یہ اختیار ہے کہ وہ اسلام کے منصفانہ نظریئے کے مطابق اس میں تبدیلی لائے۔ یہ پی پی سی کے مطابق اور شائشتگی کے معئار کو قائم کرنے کے لئے ہے جس سے معاشرے کی کامل ترقی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ زناء اور قذف کے آرڈیننس پر شہریوں کی طرف سے بالعموم اور اسلامی اسکالروں اور خواتین کی طرف سے بالخصوص سخت تنقید کی گئی۔ تنقید کے کئی موضوع تھے، ان میں زناء کے جرم کو زناء بالجبر (عصمت دری) کے ساتھ ملانا شامل ہے۔ اور دونوں کے لئے ثبوت اورسزا کی ایک ہی قسم رکھی گئی ہے۔ یہ بے جا سہولت دیتا ہے کوئی عورت جو عصمت دری کو ثابت نہیں کر سکتی اس پر اکثر زناء کا استغاثہ دائر کر دیا جاتا ہے، زناء بالجبر (عصمت دری) کے لئے زیادہ سے زیادہ سزا کے ثبوت کی ضرورت صرف اتنی ہے جتنی کہ زناء کے لئے ہے۔ یہ اول الذکر کو ثابت کرنے کے لئے تقریبا ناممکن بنا دیتا ہے۔
جب کسی مرد کے خلاف عصمت دری کے استغاثہ میں ناکامی ہو لیکن طبی معائنے سے جماع یا حمل کی یا بصورت دیگر تصدیق ہو جائے تو عورت کو چار عینی گواہوں کے نہ ہونے سے زناء کی سزا حد کے طور پر نہیں دی جاتی بلکہ تعزیر کے طور پر دی جاتی ہے، اس شکایت کو بعض اوقات اعتراف تصور کیا جاتا ہے۔
قرآن اور سنت زناء کے لئے تعزیری سزا کے مقتنی نہیں ہیں۔ یہ آرڈیننس کا مسودہ تیار کرنے والوں کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے اور قذف کے جرائم کے لئے تعزیری سزائیں نہ صرف اسلامی اصولوں کے منافی ہیں بلکہ استحصال اور نا انصافی کو جنم دیتی ہیں، انہیں ختم کیا جا رہا ہے۔ دستوری تعزیرات کو واضح اور غیر مبہم ہونا چاہیے، ممنوعہ اور غیر ممنوعہ کے درمیان واضح حد مقرر ہو۔ شہری اس سے آگاہ ہوں، وہ اپنی زندگی اور طور طریقوں کو ان روشن رہنما اصولوں کو اپناتے گزار سکیں لہذا ان میں وہ اور متعلقہ قوانین مین غیر واضح تعریفات کی وضاعت کی جا رہی ہے اور جہاں یہ ممکن نہیں ہے انہیں حذف کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ غیر محتاط شہریوں کو تعزیری قوانین کے غیر دانشمندانہ استعمال سے تحفظ بہم پہنچایا جائے۔ زناء آرڈیننس ‘نکاح‘ کی جائز نکاح کے طور پر تعریف کرتا ہے، بالخصوص دیہی علاقوں میں نکاح بالعموم اور طلاق کو بالخصوص رجسٹر نہیں کیا جاتا۔ کسی شخص پر زناء کا الزام لگانے کے لئے دفاع میں ‘جائز نکاح‘ کا تعین مشکل ہو جاتا ہے۔ رجسٹریشن نہ کرانا اس کے دیوانی منطقی نتائج میں صرف یہی کافی ہے کوئی نکاح رجسٹر نہ کرایا جائے یا کسی طلاق کی تصدیق کو تعزیری منطقی نتائج سے مشروط نہ کیا جائے۔ اس میں اسلامی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ جب کسی جرم کے ارتکاب میں کوئی شبہ پایا جائے تو حد کو نافذ نہ کیا جائے، قانون مذکورہ مقدمات میں غلط استعمال کی وجہ سے سابقہ خاوندوں اور معاشرے کے دیگر ارکان کے ہاتھوں میں ظلم و ستم کا کھلونا بن گیا ہے۔
تین طلاقیں دیئے جانے کے بعد عورت اپنے میکے چلی جاتی ہے وہ دوران عدت جاتی ہے، کچھ ہی دنوں کے بعد خاندان کے لوگ نئے ناطے کا انتظام کر دیتے ہیں اور وہ شادی کر لیتی ہے، اس وقت خاوند یہ دعوٰی کرتا ہے کہ یئت ہائے مجاز کی طرف سے طلاق کی تصدیق کے بغیر نکاح ختم نہیں ہوا اور زناء کا مقدمہ دائر کر دیتا ہے یہ ضروری ہے کہ اسے ختم کرنے کے لئے اس تعریف کو حذف کر دیا جائے۔
زناء بالجبر (عصمت دری) کے جرم کے لئے کوئی حد موجود نہیں ہے، یہ تعزیری جرم ہے، لہذا عصمت دری کی تعریف اور سزا کو پی پی سی میں بالترتیب دفعات ٣٧٥ اور ٣٧٦ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ جنس کی مبہم تریف میں ترمیم کی جا رہی ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ عصمت دری ایک جرم ہے جس کا ارتکاب مرد عورت کے ساتھ کرتا ہے۔ عصمت دری کا الزام لگانے کے لئے عورت کی مرضی دفاع کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ یہ انتظام کیا جا رہا ہے کہ اگر عورت کی عمر ١٦ سال سے کم ہو تو مذکورہ مرضی کو دفاع کے طور پر استعمال نہ کیا جائے یہ کمزور کو تحفظ دینے کی ضرورت ہے، جس کی قرآن بار بار تاکید کرتا ہے اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داری کے اصولوں میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔
اجتماعی زیادتی کی سزا موت ہے۔ اس سے کم سزا نہیں رکھی گئی ایسے مقدمات کی سماعت کرنے والی عدالتوں کا یہ مشاہدہ ہے کہ بعض حالات میں ان کی یہ رائے ہوتی ہے کہ کسی شخص کو بری نہیں کیا جا سکتا جبکہ عین اس وقت مقدمت کے حقائق اور حالات کے مطابق سزائے موت جائز نہیں ہوتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مذکورہ مقدمات میں ملزم کو بری کرنے پر مجبور ہوتے ہیںاس معاملے کو نمٹانے کے لئے سزائے موت کے متبادل کے طور پر عمر قید کی سزا کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔
تعزیر زناء بالجبر (عصمت دری) اور اجتماعی زیادتی کی قانونی کاروائی کے لئے طریقہ کار، اس طرح دیگر تمام تعزیرات، پی پی سی کے تحت تمام جرائم کو مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) بعدازیں ‘سی آر پی سی‘ کے ذریعے منضبط کیا گیا ہے۔
لعان انفساخ نکاح کی شکل ہے کوئی عورت جو کہ اپنے شوہر کی طرف سے بدکاری کی ملزمہ ہو اور اس الزام سے انکاری ہو اپنی ازواجی زندگی سے علیحدگی کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ لعان سے متعلق قذف آرڈیننس کی دفعہ ١٤ اس کے لئے طریقہ کار فراہم کرتی ہے۔ انفساخ نکاح کی آئینی تعزیر میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اسی طرح، قانون انفساخ ازواج مسلمانان، ١٩٣٩ء (نمبر٨ بابت ١٩٣٨ء) کے تحت لعان کو طلاق کی وجہ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔
زناء اور قذف کی تعریف ویسی ہی رہے گی جیسا کہ زناء اور قذف آرڈیننسوں میں ہے۔ نیز زناء اور قذف دونوں کے لئے سزائیں ایک جیسی ہی ہوں گی۔
زناء سگین جرم ہے جو کہ لوگوں کو اخلاق کو بگاڑتا ہے اور پاکدامنی کے احساس کو تباہ کرتا ہے۔ قرآن زناء کو لوگوں کے اخلاق کے برعکس ایک جرم ٹھہراتا ہے۔ چار چسم دید گواہوں کی ضرورت بلا شرکت غیرے صریحاً غیر معمولی بار نہیں ہے۔ یہ بھی دعوٰٰی ہے کہ اگر حدیث کے برعکس ہو، ‘اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے گناہوں کو چھپاتے ہیں‘ جو کسی عمل کا ارتکاب اس طرح غل غپاڑہ کی صورت میں کرتے ہیں تاکہ طار آدمی اس کو دیکھ لیں، البتہ معاشرے کو بہت سنگین نقصان ہو گا۔ اسی وقت قرآن راز داری کو تحفظ دیتا ہے، بت بنیاد اندازوں سے روکتا ہے اور تحقیقات کرنے اور دوسروں کی زندگی میں دخل اندازی سے منع کرتا ہے۔ اس لئے زناء کے ثبوت کی ناکامی کی وجوہ کی بنا پر قذف کے لئے سزا عائد ہو جاتی ہے (زناء کے متعلق جھوٹا الزام) قرآن شکایت کنندہ سے زناء کو ثابت کرنے کے لئے چار چشم دید گواہ مانگتا ہے۔ شکایت کنندہ اور شہادت دینے والوں کو اس جرم کی سنگینی سے بخوبی آگاہی ہونی چاہئے کہ اگر انہوں نے جھوٹا الزام لگایا یا الزام کے شک کو دور نہ کر سکے تو وہ قذف کے لئے سزا وار ہوں گے۔ ملزم زناء کی قانونی کاروائی میں ناکامی کے نتیجے میں دوبارہ از سر نو قانونی کاروائی شروع نہیں کرے گا۔
زناء آرڈیننس خواتین پر استغاثہ کا بے جا استعمال کرتا ہے، خاندانی تنازعات کو طے کرنے اور بنیادی انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں سے انحراف کرتا ہے۔ زناء اور قذف کے ہر دو مقدمات میں اس کے بے جا استعمال پر نظر رکھنے کے لئے مجموعہ ضابطہ فوجداری میں ترمیم کی جا رہی ہے تاکہ صرف سیشن عدالت ہی کسی درخواست پر مذکورہ مقدمات میں سماعت کا اختیار استعمال کر سکے۔ اسے قابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے تاکہ ملزم دوران سماعت جیل میں یاسیت کا شکار نہ رہے۔ پولیس کو کوئی اختیار نہیں ہو گا کہ وہ مذکورہ مقدمات میں کسی کو گرفتار کر سکے تاوقتیکہ سیشن عدالت اس کی اجازت نہ دے اور مذکورہ ہدایات ماسوائے عدالت میں حاضری کو یقینی بنائے جانے یا کسی سزا دہی کی صورت کے جاری نہیں کی جا سکتیں، مجموعہ تعزیرات کی صورت میں، عورت یا اس کے خاندان کے کسی فرد کی تشہیر نہیں ہو گی اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں چھ ماہ تک کی سزائے قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔
مذکورہ تمام ترامیم کا بنیادی مقصد زناء اور قذف کو اسلامی احکام کے مطابق قابل سزا بنانا ہے۔ جیسا کہ قرآن اور سنت میں دیا گیا ہے۔ استحصال سے روکنا، پولیس کے بے جا اختیارات سے روکنا اور انصاف اور مساویانہ حقوق پر مبنی معاشرے کو تشکیل دیتا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: